کوئٹہ (ویب ڈیسک): حکومت بلوچستان نے سوشل میڈیا پر سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے گردش کرنے والے ایک مبینہ الرٹ کو مکمل طور پر گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔ معاون خصوصی برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے اپنے ایک اہم ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ بلوچستان سیکیورٹی نوٹیفکیشن سراسر جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف سرکاری اور تصدیق شدہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔ صوبائی انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
بلوچستان سیکیورٹی نوٹیفکیشن کی حقیقت اور صوبائی حکومت کا موقف
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق پچھلے کچھ گھنٹوں سے مختلف واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پیجز پر ایک نوٹیفکیشن تیزی سے شیئر کیا جا رہا تھا، جس میں صوبے بالخصوص کوئٹہ میں سیکیورٹی تھریٹ اور ہائی الرٹ کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ معاون خصوصی بابر یوسفزئی نے اس معاملے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس بلوچستان سیکیورٹی نوٹیفکیشن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شرپسند عناصر صوبے کے پرامن ماحول کو خراب کرنے اور شہریوں میں بلاوجہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے اس طرح کی گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں۔
صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب بھی سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی حقیقی الرٹ یا ہدایات جاری کرنی ہوں، تو وہ باقاعدہ طور پر محکمہ داخلہ کے آفیشل لیٹر ہیڈ، دستخط اور میڈیا سیل کے ذریعے پریس ریلیز کی صورت میں سامنے لائی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دستاویز میں واضح تضادات موجود ہیں جو اس کے فیک (Fake) ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کی الرٹ پوزیشن اور عوامی جان و مال کا تحفظ
معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے صوبے کے امن و امان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین اور بنیادی ترجیح ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، بشمول پولیس، لیویز اور فرنٹیر کور (ایف سی)، مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور چوبیس گھنٹے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:
- صوبے کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
- کسی بھی غیر معمولی سرگرمی سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
- انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو مزید فعال اور تیز کر دیا گیا ہے۔
- عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور امن میں خلل ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
افواہ سازی اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ
بابر یوسفزئی نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا کا منفی استعمال کرنے والوں کو سخت الفاظ میں خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت متعدد بار پہلے بھی یہ تنبیہ کر چکی ہے کہ جعلی اطلاعات، من گھڑت پروپیگنڈا اور فیک نیوز کی تشہیر اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی بلوچستان سیکیورٹی نوٹیفکیشن بنانے، اسے شیئر کرنے اور فارورڈ کرنے والے تمام عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو متحرک کر دیا ہے تاکہ ان اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل ایڈریسز کا سراغ لگایا جا سکے جہاں سے یہ جھوٹا نوٹیفکیشن وائرل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ عناصر قانون کی گرفت سے کسی صورت نہیں بچ سکیں گے اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔
ذمہ دارانہ شہریت اور تصدیق کا عمل: عوام کے لیے اہم ہدایات
حکومت بلوچستان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری کا ثبوت دیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات سیکنڈوں میں پھیلتی ہیں، وہاں کسی بھی سنسنی خیز خبر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا ہر فرد کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
عوام کے لیے جاری کردہ گائیڈ لائنز درج ذیل ہیں:
- سرکاری ذرائع پر اعتماد: صرف حکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ کے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور سرکاری ترجمان کے بیانات پر یقین کریں۔
- فارورڈ کرنے سے گریز: واٹس ایپ یا دیگر پلیٹ فارمز پر آنے والے ایسے پیغامات جن کے نیچے ‘Forwarded many times’ لکھا ہو، انہیں بغیر تصدیق آگے نہ بھیجیں۔
- شکایت کا اندراج: اگر آپ کو سوشل میڈیا پر کوئی مشکوک نوٹیفکیشن یا امن و امان کو خراب کرنے والا پروپیگنڈا نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا سائبر کرائم پورٹل پر اس کی رپورٹ درج کروائیں۔
بابر یوسفزئی نے دہرایا کہ تمام متعلقہ محکمے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں۔ صوبے میں معاشی اور ترقیاتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور دشمن عناصر کی ایسی بزدلانہ افواہیں صوبے کی ترقی کے سفر کو نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے میڈیا ہاؤسز سے بھی درخواست کی کہ وہ سیکیورٹی سے متعلق کسی بھی حساس خبر کو نشر کرنے سے پہلے سرکاری ترجمان سے موقف لازمی لیں۔
حوالہ: https://share.google/oeWaWMBLmWkRR01wz
مزید خبریں: https://mrpakistaniofficial.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d8%a8%da%af%d9%b9%db%8c/
کیا سردار سرکاری ہوتے ہیں؟


