کراچی ڈیفنس فیز 2 فائرنگ کیس: انٹیلیجنس ادارے کی معلومات پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی بڑی کارروائی، 3 دہشتگرد گرفتار

Pakistan news

کراچی (ویب ڈیسک): صوبائی دارالحکومت کراچی ڈیفنس فیز 2 میں یومِ آزادی کے اسٹال پر فائرنگ کے انتہائی اہم اور حساس کیس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بہت بڑی اور نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ملک کے مایہ ناز انٹیلیجنس ادارے کی فراہم کردہ انتہائی خفیہ، مستند اور پیشگی معلومات کی بنیاد پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ایک انتہائی مربوط اور کامیاب مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والی کالعدم تنظیم کے 3 مبینہ اور خطرناک دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والے بدنام زمانہ دہشتگردوں کے قبضے سے دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے جس سے شہر میں تباہی پھیلائی جانی تھی۔

 کراچی ڈیفنس فیز 2 واقعے کا پس منظر: پرچم فروش شہری کی شہادت

یاد رہے کہ مورخہ 12 اگست 2026ء کی رات تقریباً 11:30 بجے کراچی ڈیفنس فیز 2 میں سن سیٹ بولیوارڈ پر واقع شیل پٹرول پمپ کے قریب ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔ وہاں یومِ آزادی کی مناسبت سے قومی پرچم، جھنڈیاں اور بیجز فروخت کرنے والے ایک دکان نما اسٹال پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے حب الوطنی کے جذبے کو ٹھیس پہنچانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔

اس بزدلانہ فائرنگ کے نتیجے میں اسٹال پر موجود 35 سالہ دکاندار امن ولد جاوید شدید زخمی ہوا، جسے خون میں لت پت حالت میں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی حکام کے مطابق، شہید امن اگست کے آغاز سے ہی پورے جوش و جذبے کے تحت قومی پرچم کا اسٹال لگا کر اپنے بال بچوں کے لیے حلال روزگار کما رہا تھا اور اسے صرف پاکستانی ہونے کی سزا دی گئی۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلیجنس ادارے کا کریک ڈاؤن: 3 دہشتگرد گرفتار

اس لرزہ خیز اور بزدلانہ واقعے کا سراغ لگانے کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ملک کے صفِ اول کے انٹیلیجنس ادارے نے مشترکہ طور پر دن رات ایک کر کے کام شروع کیا۔ مورخہ 18 اگست 2026ء کو ملنے والی مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کورنگی کے صنعتی علاقے میں کاز وے ندی کے قریب ایک انتہائی اہم اور خفیہ آپریشن کا جال بچھایا اور حکمتِ عملی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث تینوں دہشتگردوں کو دھر لیا۔

گرفتار دہشتگردوں کی شناخت درج ذیل ناموں سے ہوئی ہے:

  1. سجاد احمد ولد بشیر احمد (جس نے براہِ راست گولی چلائی)
  2. ظفر علی ولد عبدالرؤف (سہولت کار اور مددگار)
  3. فراز ولد محمد اسماعیل (سہولت کار اور محافظ)

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے 3 عدد ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) اور ایک عدد پسٹل برآمد کیا گیا ہے، جس کا لیبارٹری میں جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی اور بارودی مواد کے قانون کے تحت سخت ترین دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

کالعدم تنظیم ‘ایس آر اے’ سے وابستگی اور بھارتی کنکشن کا سنسنی خیز انکشاف

دورانِ تفتیش گرفتار دہشتگردوں نے انتہائی چونکا دینے والے اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ملزمان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق سندھ کی ایک کالعدم، ملک دشمن اور شرپسند تنظیم سندھودیش ریوولوشنری آرمی سے ہے جو صوبے کا امن تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

ابتدائی باریک بینی سے کی جانے والی تفتیش کے دوران ملزمان نے اگل دیا کہ انہیں بیرونِ ملک مقیم کالعدم تنظیم کے ایک انتہائی اہم اور سرگرم عہدیدار ارسلان شاہ کی جانب سے یہ مخصوص ہدف دیا گیا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ارسلان شاہ نامی یہ دہشتگرد پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی کے اشارے پر کام کر رہا ہے اور اس کا واحد مقصد سندھ بالخصوص کراچی میں تخریب کاری، لسانی و صوبائی تعصب اور دہشتگردی کی نئی لہر پھیلانا ہے۔

نگرانی سے لے کر فائرنگ تک: واردات کا طریقہ کار

دہشتگرد سجاد احمد ملاح نے تفتیش میں بتایا کہ اس نے اپنے غیر ملکی سرغنہ کی ہدایت پر 3 اگست سے ہی کراچی کے مختلف گنجان آباد علاقوں میں یومِ آزادی کے اسٹالز کی باقاعدہ نگرانی اور ریکی شروع کی تھی۔ 11 اگست کو اس نے کراچی ڈیفنس فیز 2 کے سن سیٹ بولیوارڈ پر واقع پرچم کے اسٹال کو ایک آسان ہدف کے طور پر منتخب کیا۔

طے شدہ منصوبے کے تحت، 12 اگست کی رات سجاد ملاح اکیلا موٹر سائیکل پر جائے وقوعہ پہنچا، جبکہ اس کے دو ساتھی (ظفر اور فراز) دوسری موٹر سائیکل پر اسے تحفظ فراہم کرنے اور فرار کا راستہ صاف کرنے کے لیے آس پاس موجود تھے۔ سجاد ملاح نے اسٹال پر موجود معصوم شہری امن پر پستول سے گولیاں برسائیں اور فائرنگ کے بعد تینوں دہشتگرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے۔

ملک دشمن ایجنڈے کے لیے بیرونی فنڈنگ کا اعتراف

کالعدم تنظیم کے گرفتار کارندوں نے سچ اگلتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد 14 اگست (یومِ آزادی) سے قبل شہرِ قائد کے امن پسند شہریوں میں خوف و ہراس، دہشت اور شدید افراتفری کی فضا پیدا کرنا تھا تاکہ شہری جشنِ آزادی نہ منا سکیں اور حب الوطنی کے کاموں سے دور رہیں۔ اس بزدلانہ کارروائی اور دہشتگردی کے نیٹ ورک کو فعال رکھنے کے لیے انہیں بیرونِ ملک سے خطیر رقم اور مالی معاونت بھی فراہم کی گئی تھی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید حکمتِ عملی

اس کامیاب ترین کارروائی میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلیجنس ادارے کی بے مثال پیشہ ورانہ مہارت کھل کر سامنے آئی ہے۔ ماہر تفتیش کاروں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے باریک ترین شواہد، جدید ترین تکنیکی آلات، جیو فینسنگ کی تکنیک اور خاکہ سازی کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی قلیل وقت میں ملزمان کا سراغ لگایا۔

یہ آپریشن انٹیلیجنس اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت، مستعدی، اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان بہترین ہم آہنگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اداروں کی اس بروقت کارروائی نے نہ صرف معصوم شہری کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا بلکہ شہر میں 14 اگست کے موقع پر ہونے والے دیگر ممکنہ بڑے حادثات اور دہشتگردی کے منصوبوں کو بھی قبل از وقت ناکام بنا کر دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

تحقیقات کا دائرہ وسیع

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے کراچی اور سندھ کے دیگر اضلاع میں موجود ممکنہ مقامی سہولت کاروں، بیرونِ ملک موجود دیگر رابطہ کاروں، فنڈنگ کے غیر قانونی ذرائع (حوالہ اور ہونڈی)، اور انہیں اسلحہ و بارود فراہم کرنے والے پورے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

 

خوشحال بلوچستان: ریکوڈک، سیندک اور گوادر پورٹ کے میگا پروجیکٹس پر ایک جامع، تاریخی اور معاشی انالیسس رپورٹ


کراچی ڈیفنس فیز 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *