بلوچستان: تربت سے اغوا کیے گئے 6 مزدوروں کی گولیوں لگی لاشیں برآمد، ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی

Balochistan News

بلوچستان تربت کے نواحی علاقے ناصر آباد سے دو روز قبل اغوا کیے جانے والے 6 مزدوروں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی حکام اور ضابطہ کاروں کے مطابق، ان مزدوروں کو پیر کی رات کلاتک کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد کلاتک حملے اور اغوا کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی ہے، کیونکہ ایک مزدور کو اغوا کے وقت ہی موقع پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

مقامی پولیس اور ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ 27 جولائی 2026ء کی رات کو پیش آیا۔ مسلح دہشت گردوں نے تربت-منڈ روڈ پر کلاتک کے مقام پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ انہوں نے وہاں سے گزرنے والی ایک گاڑی کو روکا جس میں ترقیاتی منصوبے پر کام کرنے والے غریب مزدور سوار تھے اور کام ختم کر کے واپس جا رہے تھے۔ مسلح افراد نے تمام مسافروں کی شناخت چیک کی اور انہیں زبردستی اغوا کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران مزاحمت کرنے پر یا شناخت ظاہر ہونے پر مسلح افراد نے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے مزدور جاوید خان کو موقع پر ہی اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا اور اس کی لاش شاہراہ پر پھینک دی۔ اس فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر سڑک سے گزرنے والا ایک مقامی بے گناہ شہری، عبدالرزاق ولد داد محمد بھی جان کی بازی ہار گیا۔ واقعے کے بعد ملزمان باقی 6 مزدوروں کو یرغمال بنا کر نامعلوم پہاڑی سلسلے کی طرف فرار ہو گئے تھے۔

مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے لیویز، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا تھا، تاہم ملزمان کا سراغ نہ لگایا جا سکا۔ جمعرات 30 جولائی کی صبح تربت شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ناصر آباد کے ویران علاقے سے مقامی لوگوں کو چند لاشیں ملیں، جس کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دی گئی۔ پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تمام 6 لاشوں کو تحویل میں لیا اور پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کیا۔ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے میڈیا ایڈوائزر بابر یوسفزئی اور تربت پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ لاشیں نہی اغوا شدہ مزدوروں کی ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق، لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں اور تمام مقتولین کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔

ہسپتال میں قانونی کارروائی کے دوران تمام 6 مقتولین کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ تمام افراد روزگار کے سلسلے میں بلوچستان آئے ہوئے تھے اور ان کا تعلق پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں محمد ارشد ولد محمد رفیق (رہائشی: دنیا پور، ضلع لودھراں)، محمد تیمور ولد محمد رفیق (رہائشی: بہاولپور)، محمد وزیر ولد محمد رمضان (رہائشی: بہاولپور)، اور محمد پرویز ولد بشیر احمد (رہائشی: بہاولپور) شامل ہیں۔ جبکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مقتولین میں امجد خان ولد زری بان شاہ (رہائشی: بونیر) اور محمد یحییٰ ولد نوروز خان (رہائشی: صوابی) شامل ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مقتولین کی میتوں کو ضروری قانونی کاغذی کارروائی کے بعد ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کرنے کے تمام ضروری انتظامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔

سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی کے پیچھے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی ملوث ہے۔ یہ گروپ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، کان کنی اور بنیادی ڈھانچے کے کاموں کو سبوتاژ کرنے کے لیے اکثر مزدوروں، انجینئروں اور ٹھیکیداروں کو نشانہ بناتا ہے تاکہ پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ ابھی حال ہی میں واشک کے علاقے ماشکیل میں بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کو دکان پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے تعمیراتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
صوبائی حکومت، گورنر اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تربت میں مزدوروں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ایک انتہائی وحشیانہ اور انسانیت سوز اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کی جائیں اور ملوث سیکیورٹی دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ صوبائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ معصوم محنت کشوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے آخری حد تک جایا جائے گا۔ اس ہولناک واقعے کے بعد پورے ضلع کیچ اور تربت کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور پہاڑی علاقوں میں مفرور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
 
https://dawn.com

بلوچستان تربت


<a href="https://uot.edu.pk/" rel="dofollow" target="_blank"> </a>

<a href="https://en.wikipedia.org/wiki/Turbat" rel="nofollow" target="_blank">تربت وکی پیڈیا پیج</a>

https://mrpakistaniofficial.com/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d9%86%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%81%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a7/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *