کوئٹہ (خصوصی رپورٹ): حکومت بلوچستان نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار گڈ گورننس اور بہترین مالیاتی نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ مالی سال کے دوران تمام ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ صوبائی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی سو فیصد تکمیل کو یقینی بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف اربوں روپے کے عوامی فنڈز کو ضائع ہونے سے بچایا گیا بلکہ صوبے بھر میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ اس شاندار کامیابی پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزیر ترقیات، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ترقیات اور متعلقہ محکموں کے افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ مالی سال کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ
صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے گزشتہ مالی سال کی تفصیلی کارکردگی رپورٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو پیش کر دی ہے۔ اس تاریخی کامیابی اور رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے تمام اعلیٰ حکام، چیف سیکرٹری اور مختلف محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے گزشتہ اور رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت کی سخت مانیٹرنگ اور مالیاتی ڈسپلن کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی خطیر رقم کی بچت کی گئی، جو کہ صوبائی خزانے پر بوجھ کم کرنے میں ایک سنگ میل ہے۔ مزید برآں، بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ 2966 ترقیاتی منصوبوں کی مکمل اور کامیاب تکمیل کو یقینی بنایا گیا، جس سے صوبے کے پسماندہ اضلاع کے عوام کو براہ راست ریلیف ملا ہے۔
چیف سیکرٹری بلوچستان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ حکومت بلوچستان نے گزشتہ سال کی کامیابی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے بھی جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس وقت صوبے بھر میں 2280 ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان تمام منصوبوں کو بھی مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ کسی بھی منصوبے کو فنڈز کی کمی یا سست روی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ مالی سال کی غیر معمولی کارکردگی پر گہرے فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، سیکرٹری ترقیات اور تمام متعلقہ افسران کی شب و روز محنت کو سراہا۔ وزیر اعلیٰ نے کارکردگی کو تسلیم کرتے ہوئے تمام متعلقہ افسران اور ٹیم ممبران کو شاباش دی اور ان کے لیے خصوصی تعریفی اسناد (Appreciation Certificates) دینے کا اعلان کیا تاکہ سرکاری مشینری کا حوصلہ بلند رہے اور وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے سے کام کرتے رہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور ریکارڈ مدت میں تکمیل کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ صوبائی حکومت کی بہترین گڈ گورننس، مؤثر مانیٹرنگ اور مضبوط نگرانی کے نظام کا براہ راست نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں منصوبے سالہا سال تک لٹکے رہتے تھے جس سے لاگت بڑھ جاتی تھی اور عوام محروم رہتے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے اس کلچر کو یکسر بدل دیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے سخت لہجے میں ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، کام کی رفتار اور معیار پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ ہر جاری منصوبے کی مسلسل اور باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ کام کے معیار میں کوئی نقص نہ رہے۔
وزیر اعلیٰ نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ “سی ایم آئی ٹی” (Chief Minister’s Inspection Team) اور مانیٹرنگ اینڈ ایولوشن ڈائریکٹوریٹ کی موثر نگرانی سے صوبے میں بدعنوانی اور کرپشن کا جڑ سے خاتمہ ہوگا۔ ان اداروں کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی فنڈز کا ایک ایک روپیہ ایمانداری سے صرف ہو۔ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے ترقیاتی وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی پر ہی خرچ کی جائے گی، اور کسی کو عوامی وسائل پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت بلوچستان کی اولین اور بنیادی ترجیح ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ترقی کے ثمرات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ بلوچستان کے ہر ضلع، ہر دور دراز علاقے اور ہر شہری تک یکساں طور پر پہنچیں۔ فنڈز کا منصفانہ استعمال حکومت کا طرہ امتیاز ہے، اور ترقیاتی فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنا کر ہم عوام کے سرکاری اداروں پر اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے اس امید اور عزم کا اظہار کیا کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف کو بھی مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اب پسماندگی کے اندھیروں سے نکل رہا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے ہم بلوچستان کو ترقی، خوشحالی اور امن کی نئی منزلوں کی جانب گامزن کریں گے، جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار، شہریوں کے لیے صحت و تعلیم اور بہترین انفراسٹرکچر کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔


