وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب اور انتہائی اہم انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کو دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا مظہر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی ہر اندرونی و بیرونی سازش کو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا。 انہوں نے کہا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے آلہ کاروں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کارروائیاں پوری قوت، یکسوئی اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی اور صوبے سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے。
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایک خصوصی اور تفصیلی اخباری بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں ہماری سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے جوانوں نے جس پیشہ ورانہ مہارت، جرات، بہادری اور لازوال قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف تاریخ کا سنہرا باب ہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں。 انہوں نے کہا کہ نوشکی میں ہونے والی حالیہ کامیاب کارروائی، جس میں سیکیورٹی فورسز نے انتہائی تندہی سے ایک خطرناک خودکش بمبار سمیت 7 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، اس بات کا واضح اور بین ثبوت ہے کہ ہمارے انٹیلی جنس ادارے اور فورسز صوبے کی سلامتی پر مامور ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی مؤثر اور بروقت کارروائیوں کے ذریعے ان کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں。
میر سرفراز بگٹی نے بھارتی اور دیگر غیر ملکی ایجنسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ بیرونی سرپرستی اور فنڈنگ کے ذریعے بلوچستان کے امن، خوشحالی اور سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی ہر گھناؤنی کوشش کا ریاست کی جانب سے بھرپور اور دندان شکن جواب دیا جائے گا。 انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ یہ دہشت گرد عناصر نہ پہلے کبھی اپنے مذموم، ملک دشمن اور عوام دشمن مقاصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ کبھی انہیں کامیابی نصیب ہوگی کیونکہ پاکستان کے تمام ریاستی، عسکری اور سویلین ادارے مکمل ہم آہنگی، اتحاد اور فولادی عزم کے ساتھ دہشت گردی کی اس لعنت کے جڑ سے خاتمے کے لیے دن رات سرگرم عمل ہیں。
وزیراعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ حکومتِ بلوچستان صوبے اور ملک کے امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں قومی اداروں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور سیکیورٹی اداروں کو درکار تمام تر وسائل، انتظامی اور سیاسی معاونت ہر صورت فراہم کی جائے گی تاکہ امن کے دشمنوں کا قلع قمع کیا جا سکے。 انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک دشمن گروہ کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بندوق کے زور پر اپنا کوئی نظریہ معصوم شہریوں یا ریاست پر مسلط کرے، اور اس حوالے سے ریاستی ادارے کسی کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے。
صوبے میں جاری ترقیاتی عمل اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر بات کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مستقبل یہاں کے محبِ وطن اور محنتی نوجوانوں سے وابستہ ہے، لیکن ایک منظم اور گہری عالمی سازش کے تحت ہمارے معصوم نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے اور انہیں ریاست کے خلاف اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں。 انہوں نے ایسے گمراہ عناصر پر واضح کیا کہ تشدد کا راستہ صرف تباہی کی طرف جاتا ہے، اور جو لوگ اس راستے کو ترک کر کے ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں واپس آنے کے لیے تیار ہیں، ریاست کے دروازے ان کے لیے آج بھی کھلے ہیں۔ حکومتِ بلوچستان کے پاس ایسے افراد کی مکمل بحالی، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کے لیے ایک جامع، ہمہ گیر اور پرکشش حکومتی منصوبہ موجود ہے تاکہ وہ ایک پرامن اور باعزت شہری کے طور پر زندگی گزار سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوشکی آپریشن کی کامیابی پر پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)، مقامی کمانڈرز اور آپریشن میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح فورسز نے گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کیا، اس سے ملک دشمنوں کو واضح پیغام مل گیا ہے کہ ان کے لیے اب بلوچستان کی سرزمین پر کوئی جائے پناہ نہیں بچی。 انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع کریں، کیونکہ عوام اور سیکیورٹی فورسز کا یہی باہمی تعاون بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا ضامن بنے گا۔ وزیراعلیٰ نے آخر میں وطنِ عزیز کے ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کی بقا اور امن کے قیام کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور عزم ظاہر کیا کہ ان بہادر جوانوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا。

