تحریر مسٹر پاکستانی
یہ جو ایک منظم پروپیگنڈہ چلایا جا رہا ہے کہ بلوچستان کے سردار سرکاری ہیں اور انہیں ریاست نے پالا ہے، یہ گراؤنڈ ریئلٹی سے بالکل عاری اور تاریخ کو مسخ کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سرداروں نے عام بلوچوں کو نسلوں سے اپنا غلام بنا کر رکھا اور خود کو ریاست کے سامنے بلوچوں کا ترجمان بنا کر پیش کرتے رہے۔ ریاست نے سرداروں کو نہیں پالا، بلکہ سرداروں نے عام بلوچ کا خون چوس کر اپنی طاقت کے محل کھڑے کیے۔
جب 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو نے سرداری نظام کے خاتمے کا قانون وفاق سے پاس کر کے اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی، تو انہی سرداروں کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔ سردار عطاء اللہ مینگل نے اس فیصلے کو سیاسی ڈھونگ قرار دے کر مسترد کر دیا، اور نواب خیر بخش مری نے واضح طور پر اس ریاستی اقدام کے خلاف یہ موقف اپنایا کہ یہ قانون بلوچستان کی قبائلی ثقافت پر حملہ اور بلوچوں کو دباؤ میں لانے کا ایک وفاقی حربہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سردار واقعی سرکاری تھے اور عوام کے ہمدرد تھے، تو انہوں نے سرداری نظام کے خاتمے کے ریاستی قانون کا خیرمقدم کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے کیوں اس قانون کو قبول کرنے سے انکار کیا؟ جواب صاف ہے، یہ سردار اپنے ذاتی مفادات، مراعات اور اپنی جاگیردارانہ حاکمیت کو بچانے کے لیے اپنے سگے بھائی کو بھی معاف نہیں کرتے۔
میں اسی بلوچستان کا فرزند ہوں اور اس مٹی کے سچ سے واقف ہوں۔ اگر بلوچستان کے اندر سردار واقعی ریاستی کٹھ پتلیاں ہیں اور عوام ان سے تنگ ہیں، تو مجھے پورے بلوچستان کی تاریخ میں کوئی ایک ایسی ریلی یا تحریک دکھا دیں جو سرداری نظام کے خاتمے کے لیے عوامی سطح پر نکلی ہو؟
ایک صوبے کے اندر ریاست کے خلاف ریلیاں نکل سکتی ہیں، فوج کے خلاف نعرے لگ سکتے ہیں، وزیر اعلیٰ کے خلاف مظاہرے ہو سکتے ہیں، لیکن کسی سردار کے خلاف کبھی ایک ریلی بھی نہیں نکلی۔ جس نظام کو وہاں کے لوگوں نے خود تسلیم کر رکھا ہو اور جس کے خلاف کبھی کوئی عوامی جدوجہد ہی نہیں ہوئی، اسے زبردستی ریاست کے کھاتے میں ڈال دینا بدترین ذہنی غلامی اور خوف کا عکاس ہے، کیونکہ لوگ سرداروں کے خوف سے حق اور سچ بیان کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔
میں اسی بلوچستان میں رہ کر کسی سردار کی حاکمیت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ ایسی کی تیسی ان سرداروں کی! ان مفاد پرستوں نے اپنے ذاتی اقتدار اور جائیدادوں کی خاطر پوری بلوچ قوم کو جہالت اور بربادی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اور آج یہی سردار بلوچیت کا لبادہ اوڑھ کر، مظلومیت کا ڈرامہ رچا کر ہماری اسی بربادی پر ہم سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں جو درد انہوں نے خود نسلوں سے ہمیں پہنچایا ہے۔
کوئی سردار سرکاری نہیں ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اپنے لوگوں نے خوف اور جاہلیت کے باعث سردار کو خود سرکار بنا لیا تھا۔ وفاق نے تو اس نظام کے خلاف قانون پاس کیا، لیکن گراؤنڈ پر عام لوگوں نے اس فرسودہ نظام کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان ڈرامے بازوں، لٹیروں اور مفاد پرست سرداروں کی ذہنی غلامی کا طوق گردن سے اتارا جائے۔ اس جاہلانہ اور غلامانہ سوچ سے باہر نکلو، کیونکہ جب تک تم ان سرداروں کو اپنا خدا مانتے رہو گے، تب تک تباہی تمہارا مقدر رہے گی۔ یاد رکھو، آزاد قومیں سرداروں کے پیر چوم کر نہیں، بلکہ ان جابرانہ بتوں کو توڑ کر ہی کامیاب ہوتی ہیں۔

