نوشکی (ویب ڈیسک): بلوچستان کے سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس اور اہم سرحدی ضلع نوشکی میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد صوبائی حکومت نے فوری طور پر تین روزہ مکمل کرفیو نافذ کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت نافذ کیا جانے والا یہ کرفیو 28 جولائی 2026 کی رات 8 بجے سے نافذ العمل ہو چکا ہے جو اگلے تین روز یعنی 31 جولائی 2026 کی رات 8 بجے تک بلا تعطل اور سختی کے ساتھ برقرار رہے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کی اہم سفارشات اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کی روشنی میں عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ حساس سرکاری تنصیبات اور اہم قومی شاہراہوں پر شرپسند عناصر کی جانب سے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا فوری پس منظر 28 جولائی کو نوشکی ویسٹرن بائی پاس پر واقع فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر ہونے والا ایک شدید دہشت گرد حملہ ہے، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد پورے شہر اور بالخصوص پاک افغان اور پاک ایران سرحد کے قریبی تجارتی روٹس پر واقع اس ضلع میں پائے جانے والے شدید تناؤ کو کم کرنے کے لیے کرفیو کا نفاذ ناگزیر سمجھا گیا۔ کرفیو کے احکامات کے تحت ضلع بھر میں ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد رہے گی، تمام مقامی بازار، کاروباری مراکز، شاپنگ مالز اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہیں گے، جبکہ سیاسی، سماجی یا مذہبی مقاصد کے لیے کسی بھی جگہ لوگوں کے اکٹھے ہونے یا اجتماعات منعقد کرنے پر دفعہ 144 کے تحت سخت ترین قانونی پابندی ہوگی۔
کرفیو کے نفاذ کے ساتھ ہی نوشکی شہر، قاضی آباد، گرڈ اسٹیشن، غریب آباد اور دیگر ملحقہ علاقوں میں ایف سی اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر کے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ سے تفتان جانے والی قومی شاہراہ (این-40) پر بھی ٹریفک کی روانی کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے اسے عام گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے حادثے یا مسافروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کرفیو کے اوقات میں گشت بڑھائیں اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص یا گروہ کے خلاف موقع پر ہی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے بعض ناگزیر شعبوں کو اس سخت کرفیو سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جس میں ڈیوٹی پر مامور طبی عملہ (ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف)، ایمبولینس سروسز، فائر بریگیڈ، سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور ضلعی انتظامیہ کے ضروری سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی انتہائی ہنگامی یا طبی صورتحال میں شہریوں کو قریبی سیکیورٹی چیک پوسٹ سے اجازت نامہ لینے کے بعد ہی نقل و حرکت کی گنجائش دی جائے گی۔ دوسری جانب مقامی آبادی نے اچانک کرفیو کے نفاذ اور سیکیورٹی ناکہ بندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے اور لوگوں کو راشن، پینے کے پانی اور ادویات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ نوشکی اور اس کے گردونواح کے اضلاع جیسے خاران اور چاغی طویل عرصے سے سیکیورٹی کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار رہے ہیں، جہاں کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی جانب سے متعدد بار سیکیورٹی فورسز اور انفراسٹرکچر پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں بھی اس خطے میں اسی طرح کے طویل کرفیو اور لاک ڈاؤن دیکھے گئے تھے جس کی وجہ سے مقامی تاجر برادری اور طلبہ کو شدید تعلیمی و معاشی نقصانات اٹھانے پڑے تھے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرتی ہے لیکن دہشت گردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے اور امن کے مستقل قیام کے لیے عارضی طور پر ایسے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے، اس لیے عوام صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور امن و امان بحال کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

