کوئٹہ سے اغوا ہونے والے اسکول استاد شین گل خان کو شہید قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری، لواحقین کے لیے ساٹھ لاکھ روپے معاوضے کی منظوری

Balochistan News

کوئٹہ سے خصوصی رپورٹ کے مطابق حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ایک اہم سرکاری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول ناکس کے سابق استاد شین گل خان کو باقاعدہ طور پر شہید قرار دے دیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے معاوضہ جات سیکشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی معلومات کے مطابق شین گل خان کو اکتیس مئی دو ہزار چھبیس کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے ہرنائی کی طرف سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران ضلع زیارت کے علاقے منگی کے مقام پر بیس سے پچیس نامعلوم مسلح دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں زبردستی اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان کی باحفاظت واپسی کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن بھی کیا گیا تھا لیکن مغوی استاد کو بچایا نہ جا سکا۔ اغوا کے چند روز بعد پندرہ جون دو ہزار چھبیس کو ضلع ہرنائی کے دشوار گزار پہاڑی علاقے زرغون گھر سے شین گل خان کی لاش برآمد ہوئی جس کے بعد صوبے بھر کے تعلیمی حلقوں، اساتذہ کی تنظیموں اور عوامی سطح پر شدید غم و غصے اور تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور محکمہ داخلہ نے اس وحشیانہ اور انتہائی افسوس ناک واقعے پر گہرے دکھ، رنج اور مقتول استاد کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کے معاوضہ جات، مراعات اور دورانِ سروس وفات کی طے شدہ پالیسی دو ہزار بیس کے تحت ایک خصوصی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں شین گل خان کی قربانی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں باقاعدہ شہید کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس اہم دستاویز کی نقول وزیر اعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹری، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام، اکاؤنٹنٹ جنرل اور ہرنائی کے ڈپٹی کمشنر کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ شہید استاد کے پسماندگان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

شہید استاد کے قانونی وارثوں اور پسماندگان کی مالی معاونت کے لیے محکمہ داخلہ نے ایک اور اہم خط سیکریٹری محکمہ خزانہ کو ارسال کیا ہے جس میں معاوضے کی کل رقم اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق ضلع ہرنائی کی ضلعی معاوضہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں شہید سرکاری ملازم کے پسماندگان کے لیے کل ساٹھ لاکھ روپے کے مالی معاوضے کی منظوری دی گئی ہے۔ خط میں محکمہ خزانہ کو مطلع کیا گیا ہے کہ منظور شدہ کل رقم میں سے پندرہ لاکھ روپے کی پہلی قسط پہلے ہی ایک عام شہری کے طور پر لواحقین کے لیے جاری کی جا چکی ہے، جب کہ شہید سرکاری ملازم کی پالیسی کے تحت باقی رقم کی ادائیگی کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

محکمہ داخلہ نے سیکشن آفیسر سلیم یوسف کے دستخطوں سے جاری اس مکتوب میں محکمہ خزانہ سے باقاعدہ درخواست کی ہے کہ شہید کے خاندان کے لیے بقایا پینتالیس لاکھ روپے کی رقم موجودہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے دوران ہنگامی بنیادوں پر جاری کی جائے۔ یہ رقم محکمہ اسکولز ایجوکیشن کے سپرد کی جائے گی تاکہ وہ قانونی کاغذی کارروائی کو مکمل کرتے ہوئے شہید استاد شین گل خان کے جائز قانونی وارثوں کو منتقل کر سکیں۔ صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو سخت ہدایت کی ہے کہ شہید کے خاندان کو پنشن، بقایاجات اور امدادی رقم کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور تمام دفتری مراحل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *