کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف ایک انتہائی اہم پیش رفت کی ہے۔ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے شروع کیے گئے آپریشن رد الفتنہ 3 کے تحت ایک بڑی سرچ اینڈ سینیٹائزیشن کارروائی کی گئی ہے، جس میں فتنہ الہندوستان کے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اہم کارروائی خفیہ اطلاعات موصول ہونے پر کوئٹہ کے نواحی علاقوں کمبیلہ اور عاصم آباد میں عمل میں لائی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے مربوط حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے مضبوط نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔
آپریشن رد الفتنہ 3 کی تفصیلات اور فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصان
سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے کمبیلہ اور عاصم آباد میں تقریباً 68 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر آپریشن رد الفتنہ 3 کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے اسے کلیئر کر دیا ہے۔ اس شدید اور طویل آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 12 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 سے 4 دہشت گرد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
زخمی ہونے والے شرپسندوں میں فتنہ الہندوستان کا ایک انتہائی مطلوب اور اہم کمانڈر ‘شوکت ماما’ بھی شامل ہے، جس کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز نے ناکہ بندی سخت کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک آپریشن کے مقام سے فتنہ الہندوستان کے 2 دہشت گردوں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے خفیہ مقامات پر تفتیش جاری ہے۔
شرپسندوں کی پناہ گاہیں اور نیٹ ورک مسمار
آپریشن رد الفتنہ 3 کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شرپسند عناصر کی جانب سے قائم کردہ خفیہ پناہ گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا۔ یہ ٹھکانے کوئٹہ کے دشوار گزار اور پہاڑی راستوں میں قائم کیے گئے تھے، جہاں سے یہ نیٹ ورک شہر کے اندر اور حساس تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے ممنوعہ مواد، اسلحہ اور دیگر آلات بھی ضبط کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور دیگر نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے تک آپریشن رد الفتنہ 3 بلاامتیاز جاری رہے گا اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ داخلہ اور صوبائی حکومت کا ردعمل
دریں اثنا، معاون برائے محکمہ داخلہ بابر خان یوسفزئی نے کوئٹہ کے مضافات میں ہونے والے اس کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ کمبیلہ اور عاصم آباد میں شرپسندوں کے خلاف یہ کارروائی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور لازوال قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بابر خان یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن رد الفتنہ 3 کے ذریعے فتنہ الہندوستان جیسے ملک دشمن عناصر کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کی سرزمیں پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور امن کے دشمنوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر اثرات
دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں آپریشن رد الفتنہ 3 کی یہ کامیابی صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو مستحکم کرنے میں ایک کلیدی میل پتھر ثابت ہوگی۔ کمبیلہ اور عاصم آباد جیسے اہم مضافات کو کلیئر کرانے سے کوئٹہ شہر کے اندر سیکورٹی کی گرفت مزید مضبوط ہوگی۔
مقامی آبادی نے بھی سیکیورٹی فورسز کی اس بروقت کارروائی کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک کی تباہی کے بعد علاقے میں سماجی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل امن و سکون کے ساتھ جاری رہ سکیں گی۔
حوالہ: https://www.express.pk/story/2826024/rad-ul-fitna-operation-12-terrorists-killed-2826024/
بلوچستان سیکیورٹی نوٹیفکیشن: سوشل میڈیا پر وائرل الرٹ جعلی قرار، بابر یوسفزئی کی سخت کارروائی کی تنبیہ

