اورماڑہ (ویب ڈیسک): مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے قریب آج ایک انتہائی دلخراش اور ہولناک ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں کار میں سوار تمام چھ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ گوادر سے کراچی جانے والے ایک تیز رفتار آئل باؤزر اور مخالف سمت سے آنے والی مسافر کار کے درمیان پیش آیا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں موجود مسافروں کو گاڑی کاٹ کر نکالا گیا۔ لیویز اور کوسٹل ہائی وے پولیس نے لاشوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آئل باؤزر کی رفتار انتہائی تیز تھی اور ایک موڑ پر اوور ٹیکنگ کی کوشش کے دوران ڈرائیور گاڑی پر کنٹرول نہ رکھ سکا، جس کے باعث کار اس کی زد میں آ گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی آپریشن شروع کیا۔ شاہراہ پر اس وقت ٹریفک کی روانی کو بحال کرنے کے لیے کرین کی مدد سے گاڑیوں کو سڑک کے کنارے منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس حادثے اور بلوچستان میں ٹریفک کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے آپ گوگل ٹریفک نیوز پر اپڈیٹس دیکھ سکتے ہیں۔
آج کے حادثے کی تفصیلی صورتحال اور عینی شاہدین کے بیانات
آج صبح مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اس وقت ایک انتہائی ہولناک منظر سامنے آیا جب اورماڑہ کے ساحلی علاقے کے قریب ایک مسافر کار اور تیل بردار باؤزر کے درمیان آمنے سامنے کا شدید تصادم ہوا۔ عینی شاہدین، جو اس وقت شاہراہ پر موجود تھے، انہوں نے بتایا کہ آئل باؤزر کی رفتار مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی اور وہ سڑک کے ایک خطرناک موڑ پر ایک دوسری گاڑی کو پیچھے چھوڑنے یعنی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران مخالف سمت سے آنے والی مسافر کار، جو گوادر سے تربت کی طرف جا رہی تھی، اس کے سامنے آ گئی۔ کار کے ڈرائیور نے گاڑی کو سڑک سے نیچے اتار کر بچانے کی بھرپور کوشش کی لیکن آئل باؤزر کی تیز رفتاری اور وزنی ہونے کے باعث وہ براہِ راست کار کے اوپر چڑھ گیا۔
ٹکر اتنی زوردار تھی کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور کار کا اگلا حصہ مکمل طور پر پچک کر لوہے کا ملبہ بن گیا۔ کار میں سوار تمام چھ افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل بتائے جاتے ہیں، شدید چوٹوں اور موقع پر طبی امداد نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئے۔ مقامی مچھیرے اور ہائی وے سے گزرنے والے دیگر مسافر سب سے پہلے امداد کے لیے پہنچے، لیکن گاڑی کا ڈھانچہ اس حد تک تباہ ہو چکا تھا کہ لاشوں کو نکالنا انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔ بعد ازاں، لیویز فورس اور کوسٹل ہائی وے پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر ہیوی کٹر اور کرینیں منگوائیں، جن کی مدد سے گاڑی کے دروازوں اور چھت کو کاٹ کر لاشوں کو باہر نکالا گیا۔ لاشوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے تمام افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آئل باؤزر کا ڈرائیور حادثے کے فوراً بعد گاڑی چھوڑ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور شاہراہ کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے : خوبصورت سفر جو خونی راستے میں بدل رہا ہے
جہاں مکران کوسٹل ہائی وے اپنی ساحلی خوبصورتی، نیلگوں سمندر کے نظاروں اور معاشی اہمیت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، وہیں حالیہ چند مہینوں اور برسوں میں یہ شاہراہ مسافروں کے لیے ایک خوفناک خواب بن چکی ہے۔ آج کا یہ تازہ ترین المیہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی اورماڑہ کے اسی روٹ پر کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ جیسے جیسے اس ہائی وے پر ہیوی ٹریفک، مال بردار ٹرکوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت بڑھ رہی ہے، روڈ سیفٹی کے مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم اس شاہراہ کی حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ رواں سال ہی ایسے کئی بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں جنہوں نے انتظامیہ اور موٹروے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس خوبصورت شاہراہ پر سفر کرنے والے سیاح اور مقامی لوگ اکثر اس کی ہموار سڑک دیکھ کر گاڑی کی رفتار تیز کر دیتے ہیں، لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ساحلی ہواؤں کی وجہ سے سڑک پر ریت کا آنا، تیز موڑ اور اچانک سامنے آنے والی ہیوی ٹریفک کسی بھی وقت موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اورماڑہ کا یہ پورا بیلٹ، جو کراچی اور گوادر کے بالکل درمیان میں واقع ہے، حادثات کے لحاظ سے سب سے زیادہ حساس قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ یہاں ہسپتالوں اور فوری امدادی مراکز کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے معمولی زخمی بھی بروقت علاج نہ ملنے پر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ماضی کے ہولناک حادثات کی تفصیلات (رواں سال کی ہسٹری)
اورماڑہ اور اس کے گردونواح میں مکران کوسٹل ہائی وے پر گزشتہ چند ماہ کے دوران پیش آنے والے بڑے حادثات کی تفصیل درج ذیل ہے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ شاہراہ مزید قیمتی جانیں نگلتی رہے گی:
1۔ منیجی کے مقام پر تصادم (7 مارچ 2026ء)
رواں سال سات مارچ کو اورماڑہ کے قریب منیجی کے مقام پر ایک بڑا حادثہ اس وقت پیش آیا جب سڑک پر کھڑے ایک خراب گیس ٹینکر سے بچنے کی کوشش میں دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔ اس حادثے میں ایک بچے سمیت سات افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ہائی وے پولیس کی رپورٹ کے مطابق، وہ گیس ٹینکر رات کے وقت سڑک کے بیچوں بیچ خراب ہوا تھا اور اس کے مالکان یا ڈرائیور نے پیچھے آنے والی گاڑیوں کو خبردار کرنے کے لیے کوئی حفاظتی نشان، ریفلیکٹر یا سائن بورڈ نہیں لگایا تھا، جس کی وجہ سے تیز رفتار گاڑیاں اندھیرے میں اس کو نہ دیکھ سکیں اور یہ المیہ رونما ہوا۔ ہائی وے پر لاوارث کھڑی گاڑیوں کی وجہ سے ہونے والے ان حادثات کی مزید تفصیلات ڈان نیوز پر پڑھی جا سکتی ہیں۔
2۔ العثمان مسافر کوچ کا الٹنا (17 جنوری 2026ء)
سال کے آغاز میں سترہ جنوری کو کراچی سے جیونی جانے والی ایک مسافر بس تیز رفتاری کے باعث اورماڑہ کے قریب ھڈ گوٹھ کے مقام پر پلٹ گئی۔ اس بس میں زیادہ تر وہ غریب مزدور سوار تھے جو روزگار کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع سے بلوچستان کے ساحلی قصبے جا رہے تھے۔ اس المناک واقعے میں نو مسافر جاں بحق اور چھتیس زخمی ہوئے تھے۔ کوسٹل ہائی وے پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بس کا ڈرائیور مسلسل اوور سپیڈنگ کر رہا تھا اور مسافروں کے بار بار ٹوکنے کے باوجود اس نے رفتار کم نہیں کی، یہاں تک کہ ایک تیز موڑ پر بس بے قابو ہو کر سڑک پر کئی قلابازیاں کھاتے ہوئے الٹ گئی۔ اس حادثے کی سنگینی اور حکومتی ردعمل کی تفصیلی رپورٹ دی ایکسپریس ٹریبیون پر شائع ہوئی تھی۔
3۔ بزی ٹاپ زائرین بس حادثہ (اگست 2024ء)
اگر ہم تھوڑا مزید پیچھے جائیں تو اگست دو ہزار چوبیس میں مکران کوسٹل ہائی وے کے سب سے خطرناک پہاڑی سلسلے بزی ٹاپ پر ایران سے آنے والے زائرین کی بس بریک فیل ہونے کی وجہ سے کھائی میں جا گری تھی، جس کے نتیجے میں گیارہ زائرین جاں بحق اور پینتیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بزی ٹاپ کا یہ پہاڑی سلسلہ اپنی اونچائی، تیز چڑھائی اور اندھے موڑوں کی وجہ سے انتہائی خطرناک مانا جاتا ہے، جہاں ذرا سی بھی غفلت گاڑی کو سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں گرا دیتی ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے پر حادثات کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
سائنسی، انتظامی اور جغرافیائی نقطہ نظر سے جب مکران کوسٹل ہائی وے پر ہونے والے ان مسلسل حادثات کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو چند بڑی اور بنیادی وجوہات سامنے آتی ہیں جن پر توجہ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے:
- تیز رفتاری اور ڈرائیورز کی تھکن: طویل، سیدھی اور سنسان ہائی وے ہونے کی وجہ سے ڈرائیورز حدِ رفتار سے شدید تجاوز کرتے ہیں۔ کراچی سے گوادر کا سفر چونکہ کئی گھنٹوں پر محیط ہے، اس لیے اکیلا ڈرائیور مسلسل گاڑی چلانے کے باعث نیند اور شدید تھکن کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے ردعمل کا وقت کم ہو جاتا ہے اور حادثہ رونما ہوتا ہے۔
- ہیوی ٹریفک اور آئل باؤزرز کا دباؤ: گوادر بندرگاہ کی فعال خصوصیات اور ساحلی پٹی پر ترقیاتی کاموں کی وجہ سے اس شاہراہ پر لوہے کے بڑے ٹرکوں، مائع گیس کے ٹینکروں اور آئل باؤزرز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ بڑی گاڑیاں اکثر سڑک کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور ان کے ڈرائیورز چھوٹی گاڑیوں کو راستہ نہیں دیتے۔
- موبائل نیٹ ورک اور سگنلز کی عدم دستیابی: مکران کوسٹل ہائی وے کے کئی سو کلومیٹر کے حصے ایسے ہیں جہاں کسی بھی موبائل کمپنی کے سگنلز کام نہیں کرتے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو زخمیوں یا وہاں سے گزرنے والے افراد کو پولیس اور ریسکیو ٹیموں کو اطلاع دینے کے لیے کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔
- علمی تحقیق اور روڈ سیفٹی کا فقدان: اس ہائی وے کے روڈ سیفٹی مسائل، مادی اسباب اور ان کے پائیدار حل پر تفصیلی علمی تحقیق جاننے کے لیے آپ جامعہ بلوچستان ریسرچ جرنل کا باقاعدہ تحقیقاتی پیپر پڑھ سکتے ہیں، جس میں ان حادثات کے ماحولیاتی اور انسانی اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ سڑک کی ساخت میں کہاں کہاں خامیاں موجود ہیں۔
حالیہ بڑے حادثات کا موازنہ (ایک نظر میں)
قارئین کی آسانی اور ڈیٹا کے تقابلی جائزے کے لیے مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے قریب ہونے والے حالیہ بڑے حادثات کا تمام ڈیٹا نیچے جدول میں ترتیب دیا گیا ہے:
| حادثے کی تاریخ | وقوعہ کا دقیق مقام | گاڑیوں کی نوعیت | جانی نقصان | حادثے کی بنیادی وجہ |
|---|---|---|---|---|
| 19 اگست 2026ء (آج) | اورماڑہ ہائی وے | کار اور آئل باؤزر | 6 جاں بحق | تیز رفتاری اور غلط اوور ٹیکنگ |
| 7 مارچ 2026ء | منیجی کے قریب | دو گاڑیاں اور گیس ٹینکر | 7 جاں بحق | سڑک پر کھڑی خراب گاڑی اور اندھیرا |
| 17 جنوری 2026ء | ھڈ گوٹھ کے مقام پر | العثمان مسافر کوچ | 9 جاں بحق | تیز رفتاری اور موڑ پر عدم کنٹرول |
| 25 اگست 2024ء | بزی ٹاپ پہاڑی سلسلہ | زائرین کی مسافر بس | 11 جاں بحق | بریک فیل ہونا اور خطرناک چڑھائی |
+-------------------------------------------------------------------+
| مسافروں کے لیے اہم روڈ سیفٹی گائیڈ |
+-------------------------------------------------------------------+
| 1. رات کے وقت سفر کرنے سے ہر ممکن گریز کریں اور دن میں سفر کریں۔|
| 2. اورماڑہ اور بزی ٹاپ جیسے خطرناک موڑوں پر رفتار پچاس سے کم رکھیں۔|
| 3. سفر پر روانہ ہونے سے پہلے گاڑی کے بریک اور ٹائرز لازمی چیک کریں۔ |
| 4. اپنے پاس اضافی پانی، خوراک اور فرسٹ ایڈ کٹ ہمیشہ موجود رکھیں۔ |
+-------------------------------------------------------------------+
مکران کوسٹل ہائی وے


