
بلوچستان کے ضلع بارکھان سے ایک انتہائی سنگین اور بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں رکھنی کے علاقے میں تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) مرید بگٹی کو مسلح افراد نے راستے سے اغوا کرنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے ضلع بارکھان اور رکھنی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور پولیس، سی ٹی ڈی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کی بھاری نفری نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پہاڑی علاقوں میں ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو پکڑنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مقامی پولیس اور انتظامیہ کے ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق، ڈی ایس پی مرید بگٹی منگل کی شام کو بارکھان اور رکھنی کو ملانے والی مین روڈ پر معمول کے مطابق جا رہے تھے۔ جب ان کی گاڑی بارکھان-رکھنی روڈ پر واقع کھٹہ چوکی کے مقام پر پہنچی تو وہاں پہلے سے گھات لگا کر بیٹھے مسلح جرائم پیشہ افراد نے سڑک بلاک کر کے ناکہ لگا رکھا تھا۔ مسلح افراد نے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی گاڑی کو دیکھتے ہی اس پر فائرنگ شروع کر دی اور گاڑی کو زبردستی روک لیا۔
گاڑی رکنے کے بعد مسلح افراد نے ڈی ایس پی مرید بگٹی اور ان کے ساتھ موجود سرکاری گن مین کانسٹیبل رسول بخش کو اسلحے کے زور پر گاڑی سے اتارا اور انہیں یرغمال بنا کر قریبی پہاڑی سلسلے کی طرف فرار ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی لیکن تب تک ملزمان پہاڑوں میں جا چکے تھے۔ اغوا کے کچھ ہی گھنٹوں بعد، اغوا کاروں نے پہاڑی علاقے کے اندر ڈی ایس پی مرید بگٹی پر سیدھی فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ فائرنگ کے اس واقعے میں ان کا گن مین کانسٹیبل رسول بخش شدید زخمی ہوا، جسے ملزمان نے بعد میں وہیں چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے۔ زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
اس سنگین واقعے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک تفصیلی اور سخت ترین بیان جاری کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ڈی ایس پی مرید بگٹی کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں صاف اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے والے اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں سیکیورٹی اداروں کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ملوث تمام ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو زمین کے کسی بھی کونے سے ڈھونڈ نکالا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ پر حملہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور پولیس افسر پر ہاتھ ڈالنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے انتظامیہ کو یہ بھی ہدایت کی کہ زخمی کانسٹیبل رسول بخش کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
محکمہ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی مرید بگٹی ایک نہایت ایماندار، نڈر اور فرض شناس افسر تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ بلوچستان پولیس میں گزارا۔ ان کی ذاتی زندگی اور سروس ریکارڈ کے حوالے سے ایک انتہائی دردناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ وہ اپنی پوری نوکری مکمل کرنے کے بعد اسی سال 12 اکتوبر 2026ء کو پولیس ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرید بگٹی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک پرسکون زندگی گزارنے کی تیاریاں کر رہے تھے اور ان کی سروس کے صرف چند مہینے ہی باقی رہ گئے تھے، لیکن ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی انہوں نے ڈیوٹی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔
مرید بگٹی کا تعلق بگٹی قبیلے سے تھا اور انہوں نے ہمیشہ بارکھان اور رکھنی جیسے قبائلی اور حساس علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے اگلی صفوں میں رہ کر کام کیا۔ مقامی لوگ اور ان کے ماتحت کام کرنے والے اہلکار ان کے اخلاق اور عوامی خدمات کی وجہ سے ان کی بہت عزت کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کی خبر سنتے ہی پورے علاقے میں سوگ کا سماں ہے۔ مرید بگٹی کی نمازِ جنازہ عیدگاہ بارکھان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی جس میں پولیس کے اعلیٰ حکام، قبائلی رہنماؤں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ڈی ایس پی مرید بگٹی کی لاش ملنے کے بعد سے بارکھان، رکھنی اور اردگرد کے تمام اضلاع میں سیکیورٹی کو شدید الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کے کمانڈوز نے مشترکہ طور پر رکھنی کے پہاڑی سلسلوں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں مشکوک ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ملزمان کے فرار ہونے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد مرید بگٹی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا۔

