
کوئٹہ (ویب ڈیسک): صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کے غیر معمولی دباؤ کے باعث پیدا ہونے والے ٹریفک کے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت بلوچستان نے ایک انقلابی اور تاریخی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے اور شہریوں کو دیرینہ سفری مشکلات سے نجات دلانے کے لیے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی جدید اے آئی بیسڈ ٹریفک سگنلز نصب کیے جائیں گے۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے نفاذ سے نہ صرف سڑکوں پر نظم و ضبط قائم ہوگا بلکہ سفر کا دورانیہ بھی واضح طور پر کم ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اہم اجلاس
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ کے شہری بنیادی ڈھانچے اور بالخصوص ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے وزیراعلیٰ کو شہر میں ٹریفک کی موجودہ صورتحال، دباؤ والے مقامات اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سڑکوں کی مانیٹرنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر روایتی طریقوں سے قابو پانا اب ممکن نہیں رہا، اسی لیے اب کوئٹہ کی اہم ترین شاہراہوں اور چوراہوں پر جدید اے آئی بیسڈ ٹریفک سگنلز کو فوری طور پر فعال بنایا جائے گا تاکہ گاڑیوں کی آمد و رفت کو خودکار طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ ٹریفک نظام کی ضرورت
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ اداروں اور محکموں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ کوئٹہ میں ایک مؤثر، پائیدار اور جدید ٹریفک نظام کے نفاذ کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنا کر شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے روایتی نظام کو ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے کر جائیں تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے اور سڑکوں پر نظم و ضبط لایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سمارٹ سٹی منصوبوں کے تحت شہر کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا وقت کا تقاضا بن چکا ہے، اور اس سلسلے میں سڑکوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے مانیٹرنگ سسٹم کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
شہریوں کی سہولت اور تحفظ حکومت کی اولین ترجیح
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی سہولت اور سڑکوں پر ایک محفوظ ٹریفک نظام کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ کوئٹہ کے عوام طویل عرصے سے ٹریفک جام اور سڑکوں کی بدانتظامی کے باعث ذہنی اور جسمانی کوفت کا شکار ہیں۔ حکومت اب ان کے مسائل سے چشم پوشی نہیں کر سکتی۔ میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ٹریفک کے مسائل کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حل تلاش کرنا حکومت بلوچستان کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے۔ ہم صوبے کے انتظامی اور بلدیاتی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات لا رہے ہیں جن کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں اور ان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔
اے آئی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے نمایاں فوائد
مصنوعی ذہانت پر مبنی اس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے کوئٹہ شہر کو متعدد فوائد حاصل ہوں گے، جن میں درج ذیل پہلو انتہائی اہم ہیں:
- سفر کے دورانیے میں واضع کمی: اے آئی بیسڈ ٹریفک مینجمنٹ کی بدولت چوراہوں پر گاڑیوں کی تعداد کے حساب سے سگنل خودکار طریقے سے سیکنڈز کا تعین کریں گے، جس سے ٹریفک کا جام ہونا ختم ہو جائے گا۔
- نظم و ضبط اور شفافیت کا فروغ: اس جدید نظام کے نفاذ سے سڑکوں پر ٹریفک قوانین کا احترام بڑھے گا، جبکہ مانیٹرنگ کے نظام میں انسانی مداخلت ختم ہونے سے شفافیت اور مؤثر نگرانی کو فروغ حاصل ہوگا۔
- محفوظ اور سہل سفری ماحول: ٹیکنالوجی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے عوام کو ایک ایسا محفوظ اور منظم ماحول ملے گا جہاں سڑکوں پر حادثات اور ہنگامی صورتحال کے خطرات کم سے کم ہوں گے۔
- ایندھن اور وقت کی بچت: سگنلز پر طویل انتظار ختم ہونے سے نہ صرف شہریوں کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ گاڑیوں کا ایندھن ضائع ہونے سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی واضح کمی واقع ہوگی۔
- کوئٹہ کو جدید شہر بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنا موجودہ حکومت کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف عارضی حل کے بجائے ایسے دوررس اور پائیدار منصوبے شروع کر رہے ہیں جو مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ ٹیکنالوجی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے ہم نہ صرف ٹریفک کا نظام درست کریں گے بلکہ اس سمارٹ سسٹم کو شہر کے دیگر انتظامی شعبوں تک بھی پھیلایا جائے گا تاکہ عوام کو ایک پرسکون اور محفوظ سفری و سماجی ماحول میسر آ سکے۔
انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو سخت ہدایت کی کہ اس منصوبے پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے اور کوئٹہ کو ماڈل سٹی بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

